How Books Change Our Society

کتاب  سے دوستی اور ہمارا معاشرہ

عہدہ حا ضر میں کتاب کا مطالعہ اور کتاب سے دوستی  کا عمل تقریباً ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے وہ دور اب دور نہیں جب کتاب کوڑیوں کے مول بکنا شروع ہوجائے۔ کتاب کا روزانہ کے معمول میں مطالعہ کرنا اور اسکی اہمیت کو فروغ دینا آج کے نوجوان اس جانب سے اپنی توجہ کو مبذول کئے ہوئے ہیں ۔ نئے دور کی نئی رسم چل پڑی ہے ۔ جس کی بناء پر نوجوان نسل اپنی تعلیم کے فقدان سے دوچار ہے۔  کتاب سے دوری کی ایک اہم وجہ کتُب تک رسائی ہے ۔ جس نے عوام کو مطالعہ سے دور کردیا ہے۔  کتاب سے دوری کے باعث معاشرے میں منفی سرگرمیاں پروان چڑھ رہی ہیں ۔ کتاب ہمیشہ سے ہی عہدہ حاضر کی بہترین ساتھی رہی ہے۔  جہاں کتاب کا روزانہ کے معمول میں مطالعہ انسانی ذہن کو پرسکون اور خوشگوار احساس سے دوچار کرتا ہے ۔ وہیں معاشرے کی ترقی کا راز کتاب میں ہی پوشیدہ ہے۔

How books change our society Image

آج سےپندرہ یا بیس سال قبل  لوگ کتاب پڑھنے کے لیے ایک دن منتخب کر کے تمام افراد اس مقام پر جمع ہوکرمل بیٹھتے اور کوئی ایک کتاب کو پڑھا کرتا اور تمام افراد اس کو سنا کرتے تھے ۔ بلکل اسی طرح طالب علم جو کے  اسکولوں میں پڑھنے جایا کرتے تھے ۔ وہ بھی اسی طرح کوئی ایک دن منتخب کرلیتے اور اس دن اکٹھے مل جل کر پڑھتے تھے ۔ لیکن  آہستہ آہستہ یہ رواج مانند پڑتا گیا اور یہ قدیم اور خو بصورت رسم اپنا دم توڑ گئی ۔ آج سے پانچ یا دس سال قبل تک کی اگر ہم بات کریں تو اس وقت بڑی عمر کے لوگ گھروں میں فارغ ہونے کی وجہ کے باعث کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے ۔ اور کتابوں میں خصوصی دلچسپی لیا کرتے تھے ۔ اور باقاعدگی سے انکا مطالعہ کرتے تھے ۔ مگر ان دو تین سالوں سے وقت نے ایسی کروٹ بدلی ، تبدیلی کی ایسی  لہر آئی کے جس نے سب کچھ یکسر بدل کر رکھ دیا ۔ اور لوگ وقتاً فہ وقتاً کتاب سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دور حاضر کا ٹیکنا لوجی اور الیکٹرانک میڈیا تک رسائی ہے ۔ انسان دور حاضر میں ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک میڈیا سے اس قدر قریب اور منسلک ہوگیا ہے کہ ہر لمحہ کی خبر صرف ایک ٹچ کی دوری پر ہے ۔ ٹیکنا لوجی کی اس جدت نے معاشرے کے کام کو آسان اور سہل تو کردیا ہے ۔ مگر نئی نسل کو کتابوں کے مطالعے سے ہم آہنگی کی رسم کو تقریباً ختم کردیا ہے ۔ کتاب کے مطالعے سے معاشرے تہذیب ، تمدن ، اخلاقیات اور انسانیت کے اصول جنم لیتے تھے۔  معاشرے میں سماجی اصول کے مطالعے کے ذریعے معاشرے کو بہتر سانچے میں ڈھالا جاتا تھا ۔ مطالعے سے معاشرے میں مثبت سوچ کے عوامل پروان چڑھتے تھے ۔ لیکن جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی ٹیکنالوجی نے معاشرے میں اپنے قدم جمائے اس نئی نسل کے نوجوانوں کو مطالعے جیسی خوبصورت روایت سے بہت دور کر دیا ۔ نئی نسل اس ضرورت کو اہمیت نہیں دیتی۔  آج کی نسل نہیں جانتی کے مطالعے کے ذریعے ہم ترقی کے نئی سفر پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں ۔ معاشرے میں جنم لیتی ہزار برائیوں سے اگر چھٹکارا چاہیے  تو ہمیں معاشرے میں کتب کے مطالعے کو اہمیت دینی ہوگی ۔ معاشرے میں جنم لیتی بے راہ روی ، بے سکونی ، بے اطمینانی کے لئے ضروری ہے کے ہم کتب میلے ، کتب لائبریری ، اور کتابی رسالے کو اہمیت دیں ۔ نئی نسل کو اس جانب راغب کرے اور اسکی اہمیت اور اثرات سے وابستہ کریں ۔ اس کے مثبت اثرات ہمارے معاشرے کو ترقی کے نئے سفر پر لے چلے گے ۔

کتاب سے دوستی آج کے ترقی یافتہ دور کا لازمی جُز ہے ۔ اگر ہم صحیح وقت پر موجود نسل کو کتاب کی اہمیت سے آراستہ نہیں کرسکے گے ۔

تو ہم اس سائینٹفک  دور میں کتاب کے مطالعے کی روایت کو برقرار نہیں رکھ سکے گے ۔ اس جدید دور میں مزید پیچھے رہ جائے گے ۔ اچھی اور مفید کتاب ایک باشعور معاشرے کی تشکییل کا ضامن ہوتا ہے ۔ کتاب کا مطالعہ انسانی سوچ کو اچھائی کے قریب لاتا ہے ۔ اور برائی سے دور کرتا ہے ۔ موجودہ دور کی اشد ضرورت کتاب کا مطالعہ ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم اپنے معاشرے کو دنیا بھر میں ایک نئی پہچان دے سکتے ہیں ۔

تو کچھ نہ جان سکا  ، اگر تو نہ پڑھ سکا

تو سب کچھ  جان گیا ،  اگر تو پڑھ گیا

فرحینہ جبین
شعبہ سیاسیات
کراچی یونیورسٹی